ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ایئر انڈیا کی نجی کاری رواں برس مشکل

ایئر انڈیا کی نجی کاری رواں برس مشکل

Sun, 20 Dec 2020 22:49:57    S.O. News Service

ئی دہلی،20؍دسمبر(آئی این ایس انڈیا) ایئر انڈیا کی نجی کاری کے عمل کو اگلے مالی سال تک بڑھایا جاسکتا ہے۔ ایک عہدیدار نے بتایاہے کہ رواں مالی سال 2020-21 میں اب تین ماہ سے زیادہ کا وقت باقی ہے ، لہٰذا نجی کاری سرمایہ کاری کا عمل مکمل ہونے کا بہت کم امکان ہے۔سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی ٹاٹا گروپ اور یو ایس میں قائم انٹر ایپس کارپوریشن سمیت متعدد اداروں نے سرکاری ایئرلائن میں حصص خریدنے کے لیے ابتدائی بولی لگائی۔ بولی جمع کروانے کی آخری تاریخ 14 دسمبر کو ختم ہوگئی۔ایئر انڈیاکے 200 سے زائد ملازمین کے ایک گروپ نے انٹر ایپ کے اشتراک سے لیٹر آف انٹرسٹ (EOI) بھی جمع کرایا ہے۔ایک عہدیدارنے بتایاہے کہ معاہدے کے مشیران 6 جنوری کو بولی دہندگان کو مطلع کریں گے۔

اس کے بعد بولی دہندگان کوائیرانڈیا کی حیثیت سے متعلق مکمل معلومات سے متعلق ڈیٹا فراہم کیا جائے گا۔عہدیدارنے بتایاہے کہ حصص کی خریداری کامعاہدہ بولی دہندگان کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔اس کے بعد مالی بولی طلب کی جائے گی۔انہوں نے بتایاہے کہ یہ معاہدہ اگلے مالی سال میں مکمل ہوجائے گا کیونکہ ہمارے اندازے کے مطابق بولی دہندگان کو مالی بولیاں جمع کرنے سے قبل ڈیٹا(ورچوئل ڈیٹا روم) اور بہت سارے سوالات تک رسائی حاصل ہوگی۔

حکومت ایئر انڈیا میں اپنی 100 فیصد حصص فروخت کررہی ہے۔ 2007 میں گھریلو ایئرلائن انڈین ایئر لائن کے انضمام کے بعد سے کمپنی کو خسارے کا سامنا کرناپڑ رہاہے۔حکومت 2017 سے ائیر انڈیا کو فروخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے ، لیکن کسی نے کوئی خاص دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ اس کے پیش نظر حکومت نے اس بار معاہدے کی شرائط کو ہلکا کردیا ہے۔ اس کے تحت ، ممکنہ بولی دہندگان کو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ اس معاہدے کے تحت کتنی ایئر لائن کمپنی لینا چاہتے ہیں۔


Share: